Urdu Literature

Oct 02, 2018
Cover

میری دوسری شادی ہوجائے گی، سوچا بھی نہ تھا۔ دوستوں کو اطلاع بھی نہ کر سکا۔ بس آناً فاناً نکاح ہوا اور رخصتی بھی ہو گئی۔


حیرت یہ ہے کہ بیگم نے خوشدلی سے اپنی سوتن کو بہن بنا لیا۔ بچے تو ماں کہہ کر لپٹ گئے۔ والدہ بھی شاد ہیں۔ میری نئی بیوی بے انتہا خوش اخلاق ثابت ہوئیں اور انہوں نے بھی سارے گھر کے افراد کو اپنا سمجھا۔


ہماری پہلی ملاقات پہلی بیگم کے ساتھ ہی ایک شاپنگ سینٹر کے کیفے ٹیریا میں ہوئی تھی۔ وہیں ہماری پہلی بیگم نے ان کو ہمارے لیے پسند کیا۔ کب بات شادی تک پہنچ گئی پتہ بھی نہ لگا۔


پہلی بیگم نے انتہائی ضد کر کے ہمیں ہنی مون پر بھیجنے کی تیاری کر رکھی ہے اور مصر ہیں کہ آپ دونوں ہنی مون پر جائیں جیسے آپ مجھے لے کر گئے تھے۔ کہتی ہیں کہ اگر پیسے کم پڑے تو وہ دینے کو تیار ہیں کیونکہ ان کی پچھلے دنوں ہی تین لاکھ کی کمیٹی نکلی ہے۔


میں کافی دیر سے یہ سوچ رہا ہوں کہ آخر وہ کون سے گھر ہوتے ہیں جہاں دوسری شادی کی وجہ سے جھگڑے ہوتے ہیں اور ایک جنگ کا سا ماحول ہوتا ہے۔ اپنے گھر کو دیکھتا ہوں تو جنت لگتا ہے۔


بیگم نے رات گیارہ بجے زبردستی ہم دونوں کو کمرے میں دھکیل کر دروازہ بند کر دیا۔ ساتھ ہی بچوں کو شور شرابے سے سختی سے منع کر دیا۔ آج صبح ناشتہ حجلہ عروسی میں پیش کیا اور اپنی ساتھی (سوتن لکھنے میں مجھے کوفت ہو رہی ہے) کو اپنے ہاتھوں سے نوالے بنا کر کھلائے۔ ساتھ ہی ساتھ چھیڑنے کے انداز میں کن انکھیوں سے ہم دونوں کو دیکھتی رہیں۔ ایسی بیویاں قسمت والوں کو ملتی ہیں۔


کل رات ہم ہنی مون پر ترکی نکل جائیں گے۔ بیگم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ میری غیر موجودگی میں وہ بچوں کی فیس، بجلی کا بل، گھر کا راشن اور باقی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔


میرا مشورہ ہے کہ آپ سب بھی اپنے گھر میں یہ ماحول بنائیں۔ محبت سے رشتوں کو قائم رکھیں اور اپنی بیوی کو اعتماد میں لیں۔ دیکھیے کہ دوسری بیوی ایک دن بعد ہی کہہ رہی ہے کہ تیسری میں آپ کے لیے خود تلاش کروں گی۔


صہیب جمال کے شہرہ آفاق ناول "باؤلے کے خواب“ سے اقتباس ۔ ۔

  • Likes
  • 0 Comments
  • 0 Shares
Comments