Urdu Literature

Sep 01, 2018
Cover

یہ فخر تو حاصل ہے, برے ہیں کہ بھلے ہیں

دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں


جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے

یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ

جلے ہیں


نازک تھے کہیں رنگ گل و بوۓ سمن سے

جذبات کہ آداب کے سانچے میں ڈھلے ہیں


تھے کتنے ستارےکہ سر شام ہی ڈوبے

ہنگام سحر کتنے ہی خورشید ڈھلےہیں


جو جھیل گۓ ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور

تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں


اک شمع بجھائ تو کئ اور جلا لیں

ہم گردش دوراں سے بری چال چلے ہیں


(اداجعفری,کلیہ"غزالاں تم توواقف ہو")

  • Likes
  • 0 Comments
  • 0 Shares
Comments