Urdu Literature

Aug 31, 2018
Cover


وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں

سو گریباں کبھی سلا ہی نہیں


اس سے ہر دم معاملہ ہے مگر

درمیاں کوئی سلسلہ ہی نہیں


بے ملے ہی بچھڑ گئے ہم تو

سو گلے ہیں کوئی گلہ ہی نہیں


چشم میگوں سے ہے مغاں نے کہا

مست کر دے مگر پلا ہی نہیں


تو جو ہے جان، تو جو ہے جاناں

تو ہمیں آج تک ملا ہی نہیں


مست ہوں میں مہک سے اس گل کی

جو کسی باغ میں کھلا ہی نہیں


ہائے، جون اس کا وہ پیالۂ ناف

جام ایسا کوئی ملا ہی نہیں


تو ہے اک عمر سے فغاں پیشہ

ابھی سینہ ترا چھلا ہی نہیں ؟


جون ایلیا 

  • Likes
  • 0 Comments
  • 0 Shares
Comments