Urdu Literature

Aug 14, 2018
Cover

سوچا تھا پہلے کر لوں وہ کام جو مجھ کو کرنے ہیں

پھر تو سارے ماہ و سال اسی کے ساتھ گزرنے ہیں


جب یہ فرض ادا کر لوں گا جب یہ قرض اتاروں گا

عمر کا باقی حصہ تیری یاد کے ساتھ گزاروں گا


آج فراغت پاتے ہی ماضی کا دفتر کھولا ہے

تنہائ میں بیٹھ کر اپنے اک اک زخم ٹٹولا ہے


چھان چکا ہوں جسم و روح پر آئ ہوئ خراشوں کو

الٹ پلٹ کر دیکھ لیا ہے ارمانوں کی لاشوں کو


کمرے میں رکھا تھا اسے, یا دل میں دفنایا تھا

جانے وہ انمول خزانہ میں نے کہاں چھپایا تھا


ساری عمر کا حاصل تھی یہ کھونے والی چیز نہ تھی

سوچ رہا ہوں یاد تیری گم ہونے والی چیز نہ تھی


ورق ورق دیکھا ہے اپنی گرد آلود کتابوں کو

جیسے کوئ بیداری میں ڈھونڈ رہا ہو خوابوں کو


مدت سے جو بند پڑی تھی وہ الماری دیکھی ہے

زنگ لگے صندوق کی ہر شے باری باری دیکھی ہے


کمرے میں پھیلا کر میں نے سوٹ پرانے دیکھ لیے

اپنی لکھنے والی میز کے سارے خانے دیکھ لیے


عقل کے ہاتھوں سے بھی اکثر نادانی ہو جاتی ہے

بہت سنبھال کر رکھنے پر بھی چیز کبھی کھو جاتی ہے


اپنے سارے گھر والوں کو دیوانہ سا لگتا ہوں

اس کمرے سے اس کمرے میں کھویا کھویا پھرتا ہوں


سوچ سمجھ کر دنیا کی نظروں سے چھپا کر رکھا تھا

میں نے تو اس یاد کو اپنے لیے بچا کر رکھا تھا


تیری یاد کہیں رکھ کر بھول گیا ہوں.....

  • Likes
  • 0 Comments
  • 0 Shares
Comments