Urdu Literature

Aug 06, 2018
Cover

2016 بڑی عید کے دوسرے دن اچانک دہشت گردوں کی اطلاع ملنے پہ سرچ اپریشن کیلیے ایک بڑا قافلہ نکلا جس میں تقریباً 15گاڑیاں شامل تھی اور ڈیرہ بگٹی کے پہاڑوں میں سرچ اپریشن شروع کیا گیا جگہ جگہ سرچ اپریشن کرتے رہے اتنے میں شام ہوگی اور جب واپس انے کیلیے ایک جگہ فوج کا یہ قافلہ رک گیا اور واپس جانے کا سوچ رپے تھے کہ اچانک سے گولیوں کی تڑ تڑا ہٹ شروع ہوگی حملہ اتنا شدید تھا کہ نوجوانوں کو سر اٹھانے کا موقع بھی نہیں دیا جارہا تھا ہر طرف گولیوں کی بارش تھی اتنے میں نائیک رفاقت نے اپنے سینئر سے اجازت لی اور اپنے ساتھ دو جوانوں کو لے کر آگے بڑھا اس دوران اس پر گولیاں کی ایک بارش شروع ہوگی لیکن رفاقت بغیر پروا کیے اگے بڑھتا رہا اور دشمن کو پیچھے دھکیلنے پہ مجبور کردیا فاہرنگ کا تبادلہ جاری تھا کہ اچانک ایک گولی آئی اور ناہیک رفاقت کے سر پہ جا کہ لگی لیکن گولی لگنے سے پہلے رفاقت دشمن کے حملہ کوپسپا کرچکا تھا سر پر گولی لگنے کے بعدرفاقت کی بچنے کی امید نا ہونے کے برابر تھی اتنے میں ہیلی کاپٹر اگیا اور نائیک رفاقت کو سی ایم ایچ لے گے ہم یہی سوچ رہے تھے کہ ابھی پتہ چلے گا کہ رفاقت خلق حقیقی سے جاملا ڈاکٹر بھی بار بار کہتے رہے رفاقت کو صرف دعا ہی بچا سکتی ہے خیر اللہ اللہ کرتے اس کے سر سے گولی نکال دی گی اور رفاقت بڑے بہادری سے زندگی سے لڑتا رہا اس نے ہمت نہیں ہاری تقریباً ایک سال بعد جب رفاقت کو سی ایم ایچ میں دیکھا گیا تو اس کے ہاتھ چھوٹے چھوٹے ہوگے تھے نہایت کمزور حالت میں تھا اس کی ذہینی میموی مکمل طور پہ ختم ہوگی تھی ڈاکٹر صاحبان دوبارہ اس کو باتیں سیکھانے کی کوشیش کر رہے تھے اس کا بوڑھا باپ جو کہ فوج میں رہے چکا تھا لیکن تقریباً وہ اس وقت 70 سال کے قریب تھا لیکن وہ ایک ہمت اور بہادر انسان تھا رفاقت کی دوبارہ سے چھوٹے بچے کی طرح پرورش کررہے تھے اور ایک سال سے گھر دور پردیس میں رہہ کر رفاقت کا خیال رکھنا اس کے کندھوں پہ باری ذم داری تھی وقت گزرتا گیا اور رفاقت زندگی اور موت کیلیے ترستا رہا اج تقریباً رفاقت کو زخمی ہوے تین سال ہونے والے لیکن اج بھی وہ زندگی اور موت سے لڑ رہا کچھ عرصہ پہلے ارمی چیف سے ملتے دیکھ کر مجھے احساس ہوا فوج اپنے ہیروز کی قدر کرتی تھی ہے باتیں کرنا بہت آسان ہے لیکن قربانی دینا بہت مشکل ہے.


پاک فوج زندہ باد


  • Likes
  • 0 Comments
  • 0 Shares
Comments